بنگلورو،30 ؍جولائی(ایس او نیوز) بنگلورو یونیورسٹی یہ منصوبہ تیار کر رہی ہے کہ ناکام طلباء کو امتحانی نتائج ظاہر کئے جانے کے فوراً بعد ہی سپلمنٹری امتحانات منعقد کرنے کے ذریعہ ایک اور موقع فراہم کیا جائے۔یہ طلباء کی طرف سے پیش کیا جانے والے ایک ایسا مطالبہ ہے جو طویل عرصہ سے زیر التواء رہا ہے اور اس مطالبہ کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ نظام کے تحت کوئی طالب علم جو کہ کسی مضمون میں ناکام ہو جاتا ہے وہ پورا ایک سال گنوا بیٹھتا ہے اس لئے کہ وہ مذکورہ مضمون کادوبارہ امتحان اگلے سال ہی دے سکتا ہے۔ڈگری کے آخری سال کے طلباء کے نتائج جن کا اعلان حال ہی میں کیا گیا ہے اس کے بعد ، اکثر طلباء جو ان امتحانات کو مکمل نہیں کر سکے ہیں، وہ امتحانات حکام سے یہ مطالبہ کر تے رہے ہیں کہ اگلے مہینہ ان کے لئے سپلیمنٹری امتحانات منعقد کئے جائیں تاکہ اس کو دہرانے کے لئے انہیں ایک سال کا انتظار نہ کرنا پڑے۔رجسٹرار (احتساب) ڈاکٹر ایم شنکرا ریڈی نے ایک مقامی انگریزی اخبار سے کہا ہے کہ’’حالیہ دنوں میں مجھے اس تعلق سے مطالبات زیادہ تر چھٹویں سمسٹر کے طلباء ہی کی جانب سے حاصل ہوتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ہمیں ’’ایک سال بعد‘‘ کے نظام کو ختم کردینا چاہئے۔طلباء چاہتے ہیں کہ ہم فوری طور پر دوسرا امتحان منعقد کریں تاکہ وہ اسی سال اس کو مکمل کرلیں‘‘۔ریڈی کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی اس نظام کی باریکیوں سے متعلق غور کر رہی ہے۔
ریڈی نے کہا کہ’’میں اس بات پر غور کروں گا کہ اس نظام کی باریکیوں سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے، اگر یہ ہوجاتا ہے تو ہمیں ہر وقت اور مسلسل امتحانات منعقد کرنے پڑیں گے۔لیکن ایسے طلباء بھی ہوتے ہیں جو ایک سے زیادہ مضامین میں پیچھے رہ جاتے ہیں، ایسے طلباء کو پھر بھی انتظار کرنا ہی پڑے گا۔میں اس تعلق سے ایک رپورٹ تیار کروں گا اور اس معاملہ کو اعلیٰ حکام کے سامنے پیش کروں گا اور پھر یہ دیکھا جائے گا کہ اس تعلق سے کیا کیا جا سکتا ہے‘‘۔بی کام کے ایک طالب علم ریتھک بابو کا کہنا ہے کہ’’میں نے صرف ایک مضمون کے علاوہ دیگر تمام مضامین کو 80 فیصدنشانات کے ساتھ مکمل کر لیا ہے، اب مجھے صرف اس ایک مضمون کے لئے ایک سال کا انتظار کرنا پڑے گا کہ میں اس مضمون کا امتحان دے کر اس کو بھی صاف کرلوں، یہ صورت حال بے حد خراب ہے اس لئے کہ میں نا تو کسی ملازمت کے لئے درخواست دے سکتا ہوں اور نا ہی کوئی دوسرا کورس اختیار کر سکتا ہوں۔ مجھ جیسے طلباء کو فوری طور پر دوسرا موقع دیا جانا چاہئے‘‘۔لیکن یونیورسٹی کے لئے یہ کوئی آسان اقدام نہیں ہے اس لئے کہ خود تعلیمی کونسل کی طرف سے اس معاملہ کی منظوری ضروری ہوگی۔وائس چانسلر ایم منی راجو نے اخبار کو بتایا کہ’’میں نے بھی اس سلسلہ کی باتیں سنی ہیں، اس ضمن میں فیصلے اس وقت لئے جائیں گے جب ہم تعلیمی کونسل میں ان امور پر بات کریں گے اور اس کے بعد ہی اس تعلق سے کوئی فیصلہ لیا جا سکتا ہے،ہم دیکھیں گے کہ اس تعلق سے کیا کیا جا سکتا ہے۔میرا خیال ہے کہ اس بات کو نافذ کیا جا سکتا ہے لیکن آخری فیصلہ تو تعلیمی کونسل کا ہی ہوگا‘‘۔حال ہی میں یونیورسٹی کو تین حصوں میں تقسیم کئے جانے کے پیش نظر ایک امتحانی افسر کا کہنا تھا کہ’’یہ مناسب وقت نہیں ہے کہ اس فیصلہ کو نافذ کیا جائے، یونیورسٹی کی تین حصوں میں تقسیم کے بعد بہت سارے کام کئے جانے باقی ہیں، لیکن میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ یہ ایک اچھا اقدام ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اس معاملہ پر ابھی غور کیا جا سکتا ہے اور اس کا نفاذ آئندہ تعلیمی سال میں کیا جا سکتا ہے۔
بنگلورویونیورسٹی کے برخلاف وشویشوریا ٹیکنالوجکل یونیورسٹی اس معاملہ پر اقدام کے سلسلہ میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی ہے، یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر کریسدپا نے بتایا کہ’’وشویشوریا ٹیکنالوجکل یونیورسٹی میں ہم اس معاملہ کو آگے لے جانا نہیں چاہتے ، اس لئے کہ پورے امتحانی نظام ہی کو دوبارہ عمل میں لانے میں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ہم نے اس طرح ناکام ہونے والے طلباء کی مددکے لئے ایک کریش کورس مرتب کیا ہوا ہے ، وہ حقیقت میں اسے ختیار کرکے بڑی آسانی کے ساتھ اپنے مضامین میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں اس طرح کی چیزوں کے مطالبات ان طلباء کی طرف سے کئے جاتے ہیں جو اصل میں ٹھیک طرح سے پڑھتے ہی نہیں ہیں اور وہ آخری وقت میں کوئی نسخہ حاصل کر لینا چاہتے ہیں‘‘۔